فاٹا کو جلد سے جلد صوبے کے ساتھ ضم کیا جاۓ

مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی زیر صدارت اجلاس نے سابق فاٹا کی 7 ایجنسیوں کو رمضان المبارک میں بجلی کی فراہمی کیلئے 1 ارب 80 کروڑ روپے کی اضافی سبسڈی دی، ان علاقوں کو ایک ارب 30 کروڑ روپے ماہانہ سبسڈی پہلے بھی دی جارہی ہے۔ مگر شاید کوئی نہیں جانتا کہ بجلی چوری کی جاتی ہے. حیات آباد سے فیکٹریاں منتقل ہو کر شاہ کس چلی گئ ہیں.جہاں سے فاٹا کی بجلی سے فیکٹریاں چلائی جاتی ہے جو لمبے ہاتھ والے لوگوں کی ہیں مگر پوچھنے والا کوئی نہیں ہے. اس طرح ملاگوری میں بھی ماربل کی بڑی بڑی فیکٹریاں ہیں جو باقی علاقوں سے بجلی کاٹ کر مفت میں چلائی جاتی ہیں. بس ان کو صرف وابڈا والوں کو کچھ پیسے دینے پڑتے ہیں اور اربوں کماتے ہیں. اس میں نورالحق کا بڑا ہاتھ ہے.

اس سے ثابت ہوتا ہے جیسے حکومت ان کو گوڑ سے مارنا چاہتے ہے کیونکہ یہاں کے زیادہ تر لوگ ان پڑھ ہیں اور رمضان میں بجلی دے کر لوگ اے سی میں دن رات سوتے رہے اور اس کا سوچھا بھی نہیں کہ آگے کیا ہو گا.

اگر اس رقم پر فاٹا کے ترقیاتی کاموں کا آغاز ہوتا تو یہ قبائل کے لیے ایک اچھی شروعات ہوتی. ترقیاتی کاموں سے بےروزگاری میں کمی آسکتی ہے کیونکہ ہر فرد تقریبأ بےروزگار ہے اور ہر ایک کام کرنا چاہتا ہے.چاہے وہ انجینئر ہے,ان پڑھ ہے یا تعلیم یافتہ سب کو روزگار کی ضرورت ہے اور جب تمام صوبوں نے فاٹا کیلئے ترقیاتی منصوبوں کی رقم میں حصہ ڈالا ہے تو اس کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے.

ان اضلاع میں تعلیمی حالت بہت خراب ہے۔ اساتذہ کی بھی کمی ہے۔2009-10ء میں اساتذہ 20,709تھے جو 2017-18ء میں کم ہو کر 18621 رہ گئے۔ یوں 5000 آسامیاں بھی خالی پڑی ہیں. کالجز و ہسپتال کی بھی کمی ہے.

بےروزگاری میں ہر دن اضافہ ہو رہا ہے.نوجوان تو پیٹ کاٹ کر تعلیم حاصل کرتے ہیں مگر نوکریاں نہیں ہیں.فاٹا کے لیے جو مخصوص نشستیں ہیں وہ ان کی آبادی کے مطابق بہت ہی کم ہیں اور اگر کسی کو ملتی بھی ہے تو ایک بڑی سفارش پہ ملتی ہے جیسا کہ پورے پاکستان میں ہوتا ہے.

یہاں خصہ دار اور نیویز میں صرف مالک کے بیٹوں کو ہی بھرتی کیا جاتا ہے. اگر باقی ملک کی طرح قوانین قائم کۓ جاۓ تو ایک عام آدمی فورسز میں آ سکتا ہے. اسی وجہ سے ایک عام قبائل انظمام کو چاہتا ہے اور مالک ایف سی آر کو قائم رکھنا چاہتا ہے تاکہ وہ اپنے تاج و تخت کو قائم رکھ سکے. اس میں بھی ایم این اے نورالحق اچھا خاصا کردار ادا کر رہے ہے. وہ انتخابات کو ملتوی کرتے رہے ہیں.اس سے یہ مالکان و خصہ دار کو کرپشن وحرام کی کمائی کے لیے مواقعے دے رہے ہیں اور اربوں پیسہ ایم این ایز,پولیٹکلز اور گورنر کے جیبوں میں جارہاہے.

ایک عام قبائل کی خواہش ہے کہ جلد سے جلد پولیس نظام لایا جاۓ تاکہ ایک عام شخص پولیس میں بھرتی ہو سکے. جلد سے جلد ترقیاتی کام شروع کۓ جاۓ تاکہ ہر حقدار کو اپنا حق ملے. جو سو ارب سالانہ فاٹا کی ترقی کے لیے مختص کر دیے گیے ہیں اسے انصاف کے مطابق اور درست طریقے سے خرچ کرنا چاہیے.

ایک عام قبائل پاکستانی شہری کی طرح زندگی شروع کر سکے نا کے ایک غلام قبائل کی طرح. یہ قبائل کے ساتھ بہت بڑی ناانصافی ہے کہ ایک مالک ان پڑھ ہو کر راج کرتا رہتا ہے اور دوسرا پڑھا لکھا ہوکر نوکری کے لیے دربدر ٹھوکرے کھاتا ہے.

ہمیں مفت کی بجلی نہیں چاہیے ہمیں میٹرز لگانے ہیں. ہم خیرات نہیں چاہیے ہم اپنا حق چاہیے ہیں.ہمیں محنت کرکے ترقی چاہیے نا کے چند لمحوں کے لیے مفت میں جنت. ہمیں تعلیم چاہیے. ہمیں بےروزگاری کا خاتمہ چاہیے.

Advertisements

میں ایک گھروالی ہوں

صبح سویرے اٹھتی ہے.نماز فجر کے بعد ساس کو ناشتہ دیتی ہے پھر بچوں اور خاوند کے جوتے صاف کرکے, کپڑے ہر ایک کے لیے الگ الگ جگہ پر رکھواتی ہے تاکہ کہ کسی کو ڈھونڈنے میں مشکل نہ ہو. ناشتہ تیار کرنے کے بعد سب بچوں کو آوازیں دے دے کر اٹھاتی ہے.آخر کار سب کو تیار کرکے ناشتہ کروا کے سکول اور کالج بھیج دیتی ہے.

اس سے فارغ ہو کر خاوند کو آواز دے کر اٹھاتی ہے پھر ناشتہ رکھ کر اس کے کپڑے جوتے اور دفتر کی باقی چیزوں کی تیاری کراتی ہے. اسے بھی دفتر بھیج کر گھر کی صفائی ستھرائی میں لگ جاتی ہے. اگر کپڑے دھونے ہو یا استری کرنی ہو وہ بھی کر لتی ہے. سب کام نمٹا کر کے ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر سبزی پیاز کاٹ لیتی ہے. سبزی تیار ہونے کے بعد پتیلی کو چولھے پہ چڑھاتی ہے. ساتھ میں آٹا گوندھ دیتی ہے. جوس تیار کرکے ساس کو دیتی ہے پھر باورچی خانے میں آکر کھانے کی تیاری کے ساتھ کیچن کو بھی چمکا دیتی ہے.

ظہر کی نماز کے بعد بچے سکول سے آ جاتے ہیں اسے کھانا دے کر ان کے بکھرے ہوۓ کپڑے سمیٹ کر برتن دھو کر تھوڑی دیر کے لیے لیٹ جاتی ہے. مگر بچوں کی چیخ وپکار کی وجہ سے آنکھ نہیں لگ سکتی. کبھی کمپیوٹر پہ جھگڑا تو کبھی ٹی وی پہ.

سہ پہر میں ہلکا ناشتہ دے کر بچوں کو ہوم ورک کروانے کے لیے کہہ دیتی ہے اور عصر کی نماز کے بعد رات کے کھانے کی تیاری میں لگ جاتی ہے.کھانا تیار ہوتے وقت ان کا خاوند دفتر سے تھکا ہارا لوٹ آتا ہے.چاۓ دے کر دفتر کا حال چال پوچھ لیتی ہے. مغرب کی آذان ہوتی ہی خود نماز پڑھ کر بچوں کو نماز کے لیے کہہ دیتی ہے. کبھی پڑھ لیتے ہیں تو کبھی نظرانداز کر لیتے ہیں. پھر اپنے کمپیوٹر,لیپ ٹاپ و موبائل میں لگ جاتے ہیں جو بار بار منع کرنے کے باوجود یہ استعمال کرتے رہتے ہیں.

رات کا کھانا اکھٹے ہی کھا لیتے ہیں. برتن دھونے کے بعد عشاء کی نماز پڑھ کر سب کے ساتھ ٹی وی دیکھنے بیٹھ جاتی ہے. بس واہی ساس بہو کی کہانیاں اور مار پیٹھ کی فلمیں لگی رہتی ہے.کوئی کہے یہ لگاؤ تو کوئی کہے وہ لگاؤ. دس بجے بجتی ہی تھکن سے چور ہو کر بچوں کو سونے کے لیے کہہ دیتی ہے اور لیٹ جاتی ہے. کوئی لیٹ جاتا ہےتو کوئی موبائل پہ لگا رہتا ہے.اگر سکول ہوم ورک رہ گیا ہو تو کوئی وہ کر لیتا ہے. کچھ ہی دیر میں پھر سے بچے کچھ کھانے کی فرمائش کر لیتے ہیں تو پھر سے اٹھ کر کچھ کھانے کے لیے دی ہی دیتی ہے.

بس مزید دم ان میں نہیں ہوتا اور سو جاتی ہے اگلے صبح کی تیاری کے لیے.

Peach

Peaches are high in fiber, vitamins, and minerals.

Peaches are related to plums, apricots, cherries, and almonds. They can be eaten on their own or added to a variety of dishes.

Peaches are nutritious and may offer an array of health benefits, including improved digestion, smoother skin, and allergy relief.

Peaches are rich in many vitamins, minerals, and beneficial plant compounds.

Peaches are high in fiber, vitamins, and minerals. They also contain beneficial plant compounds like antioxidants, which can help protect your body from aging and disease.

Peaches contain fiber, which contributes to smooth digestion and a lower risk of gut disorders. Peach flowers also provide certain compounds that appear to support a healthy gut.

Peaches contain compounds that may help reduce risk factors for heart disease, such as high blood pressure, as well as triglyceride and cholesterol levels.

Compounds in peaches and peach flowers may help keep your skin healthy by maintaining moisture and protecting against sun damage.

Compounds found in peaches may offer some protection against cancer by limiting the formation, growth, and spread of cancerous cells.

Peaches may help lower your immune system’s response to allergens, thus reducing allergy symptoms.

Peaches may boost immunity, rid the body of toxins, and reduce blood sugar levels.

It’s best to purchase fresh peaches that are either under-ripe or slightly ripe. Fresh peaches are the most nutritious, followed by frozen and then canned. If buying canned, it’s best to choose a variety packed in water without added sugars.

Eid in village

I know my best Eid in my village

When your preparation has completed for eid yet your Eid night will be busy too much.

Last preparation of Eid matching jewelry, shoes and Mehndi is complete preparation for girls and women.

Boys and men have to buy gifts for their kith and kin in Eid night.

On Eid day they wear new clothes for Eid prayer. They go to Eid Ghah (ground for eid prayer) to pay Eid prayer and hug each other to felicitate of Eid.

Elders give Eidi (money) to youngs.

They meat with their friends and relatives.

Enjoy delicious dishes with them. Some prefer go to festivals.

Some prefer stay in homes with their friends and relatives.

We go to village to celebrate Eid.

Eid preparation

Eid is a very special time to all of us, it brings us closer and gives us a chance to spend more quality time together.

It’s a especial time when we convene our displeased relatives. We meet them wherewith have not been found in the years.

Preparations for Eid begins as early as the first week of Ramadan, where consumers are motivated by the tradition of buying new clothes and decorative items.

Your family force you for precious purchases. And you buy everything what they want and no matter how expensive it is.

If your preparation of your dresses and shoes have completed then you start preparation for your relative and guest’s feast. You have to prepare delicious meals and you have to decorate your homes.

حج

یہ پیراگراف میں ایک ویب سائٹ سے لے چکی ہوں جو پہلے کے حج کے بارے میں تھا. آپ بھی علم میں اضافے کے لیے پڑھ لیجیے. شکریہ

۔ ۹ھ میں مسلمانوں نے اجتماعی طور حضرت ابوبکر صدیقؓ کی امارت میں پہلا حج ادا کیا.  ان کے بعد حضرت علیؓ کو بھیجا، کچھ اعلانات ان کے ذریعے کروائے اور آئندہ سال اپنے حج کے لیے تیاری کی.

اس تیاری میں دو تین باتیں اہم تھیں۔ پہلی یہ کہ مختلف عرب قبائل کے ساتھ جو معاہدات تھے، ان میں سے کچھ کو باقی رکھنے کا فیصلہ کرنا تھا اور کچھ کو ختم کرنے کا۔ اور دوسری بات یہ تھی کہ آئندہ سال اپنے حج سے پہلے حضورؐ مکہ کے ماحول میں کچھ صفائی چاہتے تھے۔

پہلے ہر قسم کے لوگ حج کے لیے آجاتے تھے، آپؐ نے اعلان کروا دیا کہ آج کے بعد کوئی غیر مسلم یہاں نہیں آئے گا، یہ بیت اللہ صرف مسلمانوں کے لیے مخصوص ہے، یہ بیت اللہ ابراہیمی ہے اور ابراہیم علیہ السلام کی ملت کے لیے مخصوص ہے۔ اسی طرح پہلے بہت سے لوگ حج کے لیے آتے تو ننگے طواف کرتے، مرد بھی اور عورتیں بھی۔ عورتوں نے معمولی سا لنگوٹی طرز کا کوئی کپڑا پہن رکھا ہوتا تھا۔ اور کہتے تھے کہ یہ نیچر ہے کہ ہم دنیا میں بھی ننگے آئے تھے اس لیے ہم اللہ کے دربار میں ننگے ہی پیش ہوں گے۔ بعض روایات (مسلم، رقم ۵۳۵۳) میں ذکر ہے کہ مرد تو تلبیہ پڑھتے تھے لیکن عورتیں کچھ اشعار پڑھتی تھیں، مثلاًالیوم یبدو بعضہ أو کلہ     فما بدا منہ فلا أحلہ

جن کا مطلب یہ تھا کہ ہم اللہ کے دربار میں اس کیفیت(ننگی حالت) میں پیش ہیں۔ ہمارا سارا ستر یا اس کا کچھ حصہ دکھائی دے گا لیکن ہم اپنے آپ کو کسی پر حلال نہیں کرتیں کہ وہ ہماری طرف دیکھے۔ عورتیں اس طرح کے اشعار پڑھتی ہوئی طواف کیا کرتی تھیں۔ نبی کریمؐ نے یہ اعلان بھی کروا دیا کہ آج کے بعد کوئی شخص ننگا طواف نہیں کرے گا۔ عورتیں تو مکمل لباس میں ہوں گی اور با حیا و با وقار طریقہ سے آ کر طواف کریں گی۔ اور مرد بھی اپنا جسم مکمل طور پرڈھانپیں گے لیکن دو چادروں سے۔

یہ دو اعلان حضورؐ نے اگلے سال کے لیے کروا دیے کہ اگلے سال کوئی غیر مسلم حج کے لیے نہیں آئے گا اور کوئی ننگا طواف نہیں کرے گا۔

Best Author

Yes I write

A author speaks less and writes best because that listens more.

writing every day has brought me many great things: A better career, fulfillment, self-improvement, and most importantly, the ability to share my ideas with everyone.

when you write every day, you strengthen your discipline. You can use that better self-discipline to achieve virtually anything in life.

when you write for yourself, you’re trying to convince yourself of your own thoughts. So the more you write, the better you become at persuasion.

When you force yourself to write every day, you automatically become more aware of your thoughts.

Start by stealing other people’s writing styles. Stealing is an effective way to develop your own style.

Thus it’s better for you that write at least once a day.

عید کی شاپینگ

R-Sheen

2nd episode of https://wp.me/paHp0S-3M

آج مسرت نے عید کی شاپینگ کے لیے آر شین شاپ جانے کا ارادہ کیا جو پشاور صدر میں تھا.اور اپنے شوہر کو منوانے کے لیے حربے سوچنے لگی.
پہلے تو اس نے خود کو سنوار لیا.(وہ خود کو کبھی بھی آئینے میں نہیں سنوارتی تھی کیونکہ وہ اکثر عورتوں سے کہتی میں اپنے تصور میں ایک شہزادی ہوں اس لیے میں آئینہ نہیں دیکھتی ہوں.) پھر اسی کے مزے کا پکوان دوپہر کے کھانے میں تیار کیا.میاں کا آتے ہی بولی “واہ رہے میں صدقے.سارا دن میں آپ ہی کے بارے میں سوچ رہی تھی اور میں نے آپ کے مزے کا کھانا تیار کیا ہے چاہے تو لے آؤں” شوہر کے ساتھ چارپائی پر بیٹھ گئ.
شوہر نے زور سے کہا “تو بیٹھ کیوں گئ ہو جا کے لے آوں”.وہ جان گیا کہ کچھ فرمائش کرنی ہے. وہ جلدی سے کھانا لے آئی اور فرمائش کا اظہار کر لیا. اس پر ان کے شوہر راضی ہوۓ اور شام کو جانے کے لیے کہا.
وہ اور ان کا چھوٹا بیٹا اور ان کے شوہر آر شین شاپ کے لیے گۓ.شاپ خاصی بڑی تھی اور اس میں ایسے بڑے بڑے آئینے بھی لگے ہوۓ تھے کہ کسی کو معلوم نہیں ہوتا تھا کہ یہاں آئینے ہیں.
سیڑھیوں پر چلتے ہوۓ سامنے عورت کو دیکھ کر بولی “ارے اس عورت نے تو میرے جیسے کپڑے پہنے ہیں.خیر مجھے کیا”. پھر جب کپڑے دیکھنے کے لیے آگے بڑھی اسے وہاں وہ پھر نظر آئی. “ارے کمخت عورت یہاں بھی آگئ ذرا غور سے تو دیکھوں کہ کیسی ہے ارے کتنے بدصورت ہے معلوم نہیں اس کا شوہر اسے پسند کرتا بھی ہو گا کہ نہیں.بھئی حیرت ہے جہاں میں جاتی ہوں وہاں یہ جاتی ہے”. اس نے اپنا دوپٹہ صحیح کرکے دیکھا تو اس نے بھی ویسے ہی کیا اس نے سوچا چلو اس سے بات کر کے پوچھ لیتی ہوں. تو وہ بھی اسی طرح آگی بڑھی. جب قریب ہوئی تو سمجھ گئ ” تو یہ تو ہے مسرت”.خود سے بڑبڑانی لگی.”ارے مسرت تو اتنی بدرنگ ہے تجھے تو میں نے آج دیکھا.ارے کمبخت مارے آئینے تو نے مجھے کیوں بتایا.تو نے مجھے کہی کا نا چھوڑا”
ایک کرسی پہ منہ پھولاۓ بیٹھی تھی. خریدنے کے لیے ایک جوڑا لیا لیکن اس دکان اور آئینے پر غصہ تھی. اسے میں انہیں ایک ترکیب سوجھی جب وہ دکان میں ایک مجسمے کو کپڑے پہنے دیکھ رہی تھی.
مجسمے کے تھیلے کو چھو کر چیخی “بم بم بم اس میں میں نے بم رکھ دیا ہے.بچو بچو”
گاہک یہ بھاگے وہ بھاگے,سب کو اپنی جان بچانی تھی.ایک موٹی عورت ان پر آکے گر پڑی.”ارے یہ ہاتھی کہا سے آیا”یہ کہہ کر اسے دھکا دے دیا.
“ارے میں مزاق کر رہی تھی ایسا کچھ بھی نہیں ہے” مسرت نے شرمندہ ہو کو کر کہا.ان کے شوہر ان کو غصے بھرے نظر سے دیکھ رہے تھے.
“مں مں میں تو مزاق کررہی تھی لوگوں کو ہسانا چاہتی تھی” مسرت نے اپنے شوہر سے نظر چرانے کی کوشش کی.”گھر جا کے میں بھی تیرے ساتھ مزاق کر لیتا ہو ذرا گھر تو چلے” ان کے شوہر نے کہا جو کافی غصے میں تھے.
ادھر شاپ والوں نے پولیس کو بولا کر تفتیش کرنی چاہی اور کہا کہ تم تب تک نہیں جا سکتے جب تک ہم تسلی کر لے.
“ارے میں نے تو تم لوگوں کو خوش کرنے کے لیے ایسا کیا” سب شاپ والوں بہلا پھسلا کے ہنسا دیا.

Create your website at WordPress.com
Get started